Naat
Woh su-e-lala-zar phirte hain
وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں
Urdu Kalam
مطلع
وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں
تیرے دِن اے بہار پِھرتے ہیں
جو تِرے در سے یار پِھرتے ہیں
در بدر یُوں ہی خوار پِھرتے ہیں
آہ کل عیش تو کیے ہم نے
آج وہ بے قرار پِھرتے ہیں
ان کے اِیما سے دونوں باگوں پر
خیلِ لیل و نہار پِھرتے ہیں
ہر چراغِ مزار پر قُدسی
کیسے پروانہ وار پِھرتے ہیں
اُس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پِھرتے ہیں
جان ہیں جان کیا نظر آئے
کیوں عَدو گِردِ غار پِھرتے ہیں
پُھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں
دشتِ طیبہ کے خار پِھرتے ہیں
لاکھوں قُدسی ہیں کام خدمت پر
لاکھوں گِردِ مزار پِھرتے ہیں
وردیاں بولتے ہیں ہرکارے
پہرہ دیتے سوار پِھرتے ہیں
رکھیے جیسے ہیں خانہ زاد ہیں ہم
مَوْل کے عیب دار پِھرتے ہیں
ہائے غافِل وہ کیا جگہ ہے جہاں
پانچ جاتے ہیں چار پِھرتے ہیں
بائیں رستے نہ جا مسافِر سُن
مال ہے راہ مار پِھرتے ہیں
جاگ سنسان بن ہے رات آئی
گُرگ بہرِ شِکار پِھرتے ہیں
نفس یہ کوئی چال ہے ظالم
جیسے خاصے بِجار پِھرتے ہیں
مقطع
کوئی کیوں پُوچھے تیری بات رضاؔ
تجھ سے کتّے ہزار پِھرتے ہیں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhram Makfuf Mahzuf
Radif
ں
Total Ashaar
16
Total Misra
32
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish