Hamd
گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے
مُبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے
Naat
پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو
ہاں شَرع کا البتہ ہے جُنْبہ مجھ کو
Naat
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
Manqabat
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اُونچے اُونچوں کے سَروں سے قدَم اعلیٰ تیرا
Naat
حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
Hamd
لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
Hamd
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نِرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے
Naat
شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
ساقی میں ترے صدقے مے دے رمضاں آیا
Hamd
بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث
تِرے ہی در سے مُسْتَکْمِل ہے یا غوث
Munajat
ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم
قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم