Hamd
Gham ho gaye be-shumar Aqa
غم ہو گئے بے شُمار آقا
Urdu Kalam
مطلع
غم ہو گئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا
منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہُوں میں پار آقا
ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری
لِلّٰہ یہ بوجھ اُتار آقا
ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ
بھاری ہے تِرا وقار آقا
مجبور ہیں ہم تو فِکر کیا ہے
تم کو تو ہے اِختیار آقا
میں دُور ہوں تم تو ہو مِرے پاس
سُن لو میری پکار آقا
مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گُسار آقا
گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈُوبا ڈُوبا، اُتار آقا
تُم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا
پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا
جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقا
ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ
میرا ہے وہ کامگار آقا
سویا کیے نابکار بندے
رَویا کیے زار زار آقا
کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں
دُنیا کے یہ تاجدار آقا
اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں
ایسے ایسے ہزار آقا
بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے
لَا تَغْسِلُھَ الْبِحَار آقا
مقطع
اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو
لَا یَقْرُبُہُ الْبَوَار آقا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
Radif
ا
Total Ashaar
18
Total Misra
36
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish
Topics
Allah
Rasool-e-Kareem