Naat
Har Simt Tujh Mein Birakt Aqtaab Ki Zameen Hai
ہر سمت تجھ میں برکت اقطاب کی زمیں ہے
Urdu Kalam
مطلع
اقطاب کی زمیں ہے
ہر سمت تجھ میں برکت اقطاب کی زمیں ہے
مارہرہ تیری قسمت اقطاب کی زمیں ہے
سب کیلئے ہی راحت اقطاب کی زمیں ہے
دنیا میں گویا جنت اقطاب کی زمیں ہے
ہر ذرہ ہے منور انوارِ قادری سے
یعنی حریفِ ظلمت اقطاب کی زمیں ہے
حیرت سے دیکھتا ہے جھک کر فلک بھی تجھ کو
حاصل وہ تجھ کو رفعت اقطاب کی زمیں ہے
ہیں شمس معرفت کے کُل اولیاء یہاں کے
ان سے ہی تیری زینت اقطاب کی زمیں ہے
پاتے ہیں فیض ہر دم، اس سرزمیں سے ہم سب
کیونکر نہ ہو عقیدت اقطاب کی زمیں ہے
فیضِ حسؔن یہاں ہے فیضِ حسیؔن بھی ہے
مولا علؔی کی جلوت اقطاب کی زمیں ہے
ہر سمت ہے بہارِ سرکارِ غوث اعظم
ان کی بڑی عنایت اقطاب کی زمیں ہے
برکاتیو یہ سن لو پندرہ قطب یہاں ہیں
اور ہر قُطُبْ کی جنت اقطاب کی زمیں ہے
یہ ہیں جلیؔل امت، ’’در گہہ بڑی‘‘ ہے اِن کی
آتی ہے یاں پہ خلقت اقطاب کی زمیں ہے
شیخ جلاؔل بھی ہیں، شیخ اِبرَاہِیْمؔ بھی
اعلیٰ ہے ان کی سیرت، اقطاب کی زمیں ہے
اک چھت کے نیچے یکجا، ہیں قطبِ وقت ساتوں
پائے نہ کیوں یہ رفعت اقطاب کی زمیں ہے
ساتوں قطب کے مرکز بیشک ہیں شاہ برکؔت
ان سے ہی تجھ میں برکت اقطاب کی زمیں ہے
قطبِ زمان ثانی آل محؔمدیﷺ ہیں
کیا خوب ان کی عظمت اقطاب کی زمیں ہے
حمزؔہ کی ذات سے ہیں روشن یہ ماہ پارے
کیسی عیاں ہے لمعت اقطاب کی زمیں ہے
اچھؔے میاں سے اچھی، ستھرےؔ میاں سے ستھری
بنتی ہے یاں پہ سیرت اقطاب کی زمیں ہے
آلِؔ رسولﷺ کا ہے یہ فیض جس سے ہر دم
گہوارۂ مسرت اقطاب کی زمیں ہے
کامل کیا رضاؔ کو پل میں گلے لگا کر
ایسی مثالِ نُدرت اقطاب کی زمیں ہے
نوریؔ میاں کے قرباں فیض و کرم سے ان کے
بستانِ علم و حکمت اقطاب کی زمیں ہے
شاہ جیؔ میاں کا قبّہ جو آٹھویں قطب ہیں
گویا نشانِ رفعت اقطاب کی زمیں ہے
ببّا حضوؔر بھی ہیں اقطاب کے جہاں میں
سید میاںؔ کی خلوت اقطاب کی زمیں ہے
اور یہ حسنؔ میاں ہیں جو گیارہویں سے چمکے
کیسی حسیں نُضارت اقطاب کی زمیں ہے
میم محمدی ہے مارہرہ تیری قسمت
گنبد نشانِ عظمت اقطاب کی زمیں ہے
میم مدینہ سے ہے مارہرہ ایسا روشن
گم ہے نشانِ ظلمت اقطاب کی زمیں ہے
دیتے ہیں درسِ وحدت یاں پر امینؔ ملت
بے شک امین وحدت اقطاب کی زمیں ہے
ہاں اک قطب یہاں کے مفتی خلیؔل بھی ہیں
اور ان کی وجہ شہرت اقطاب کی زمیں ہے
حافظؔ زمانہ جس سے برکات پارہا ہے
مقطع
وہ خانقاہِ برکت اقطاب کی زمیں ہے
(۴ صفر الخیر ۱۴۳۷ھ/ ۱۷ نومبر ۲۰۱۵ء)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mashkool Musakkan
Arkaan
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
Radif
اقطاب کی زمیں ہے
Zameen
بحر: رمل مثمن مشکول مسکن؛ ردیف: اقطاب کی زمیں ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
56
Writer
Ibn-e-Khaleel Ahmad Miyan Hafiz Al-Barkati
Book
Hadaiq-e-Barakat