Naat
Chalo Dekh Lein Woh Haqeeqateen Jinhein Dekhna Bhi Misaal Hai
چلو دیکھ لیں وہ حقیقتیں جنہیں دیکھنا بھی مثال ہے
Urdu Kalam
مطلع
چلو دیکھ لیں وہ حقیقتیں جنہیں دیکھنا بھی مثال ہے
سوئے منتھیٰ جو چلے نبی ابھی امتی کا خیال ہے
لبِ مصطفےٰ وہاں ہل گئے تو گنہگار مچل گئے
میرے امتی کو بچا خدا یہ نبی کا وقتِ وصال ہے
عطا جن کو حسنِ نبی ہوا تو زنانِ مصر پہ کرگئیں
کٹیں سائے حسن میں انگلیاں یہ نبی کا عکسِ جمال ہے
اے اُمیہ تجھ کو خبر کہاں رگِ تن میں ہے نہیں خوں رواں
یہاں دوڑتی ہیں محبتیں یہی کہتا عشقِ بلال ہے
یہ جو شمع و گل پہ بہار ہے یہ کرم ہے ان کے ہی خار کا
یہ ہیں خارِ شہرِ حبیبِ جاں جنہیں چومنا بھی کمال ہے
جو نبی نے پوچھا کہ اے امیں کہیں دیکھا ہم سا روئے حسیں
کہا طائرِ سدرہ نے برملا نہیں ان کی کوئی مثال ہے
در مصطفےٰ پہ پہونچ گئے ہوا زندگی کا حصول یوں
پسِ دید عشق بھی بڑھ گیا ابھی واپسی کا ملال ہے
کریں مصطفےٰ کی اہانتیں سر بزم اس پہ ہمتیں
کہا مجھ کو کیوں ہے جہنمی ارے وہ تو تیرا وبال ہے
مقطع
کیا زروں نے دعوئے شمس جب ہوا ان کا گزر ابھی راہ سے
تمہیں صدقۂ پا جو ملے فاراں کہیں لوگ یہ بھی ہلال ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Kamil Musamman Salim
Arkaan
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
Radif
ہے
Zameen
بحر: کامل مثمن سالم؛ ردیف: ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
18
Writer
Maulana Mufti Muhammad Faran Raza Khan
Book
Faran