Naat
Hai Lab-e-Eesa Se Jaan Bakhshee Nirali Hath Mein
ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں
Urdu Kalam
مطلع
ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں
بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دست
رہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں
کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا
راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں
جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ
کیا عجب اڑ کر جو آپ آئے پیالی ہاتھ میں
ابرِ نیساں مومنوں کو تیغِ عریاں کفر پر
جمع ہیں شانِ جمالی و جلالی ہاتھ میں
مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
سایہ افگن سر پہ ہو پرچم الٰہی! جھوم کر
جب لِوَاءُ الْحَمْد لے امّت کا والی ہاتھ میں
ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم
موج زن دریائے نورِ بے مثالی ہاتھ میں
وہ گراں سنگی قدرِ مِس وہ ارزانیِ جود
نوعیہ بدلا کیے سنگِ ولالی ہاتھ میں
دستگیرِ ہر دو عالم کر دیا سبطین کو
اے میں قرباں جانِ جاں انگشت کیالی ہاتھ میں
آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر درود
وقف سنگِ در جبیں روضے کی جالی ہاتھ میں
جس نے بیعت کی بہارِ حسن پر قرباں رہا
ہیں لکیریں نقش تسخیرِ جمالی ہاتھ میں
(ق): کاش ہوجاؤں لبِ کوثر میں یوں وارفتہ ہوش
لے کر اس جانِ کرم کا ذیلِ عالی ہاتھ میں
آنکھ محوِ جلوۂ دیدار، دل پُر جوشِ وجد
لب پہ شکّر بخششِ ساقی پیالی ہاتھ میں
حشر میں کیا کیا مزے وارفتگی کے لوں رؔضا
لوٹ جاؤں پا کے وہ دامانِ عالی ہاتھ میں
مقطع
(حدائقِ بخشش)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
Radif
ہاتھ میں
Zameen
بحر: رمل مثمن محذوف؛ ردیف: ہاتھ میں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish