Hamd
Aankhein Ro Ro Ke Sujane Wale
آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
Urdu Kalam
مطلع
آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے
ارے او چھاؤنی چھانے والے
ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے
دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے
ارے بد فَال بُری ہوتی ہے
دیس کا جنگلا سُنانے والے
سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے
آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام
او درِ یار کے جانے والے
پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف
ارے چل جُھوٹے بہانے والے
نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا
ہے مِری جان کے کھانے والے
جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو!
طیبہ سے خُلد میں آنے والے
نِیم جلوے میں دو عَالم گلزار
واہ وا رنگ جمانے والے
حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا
کہتے ہیں اگلے زمانے والے
وہی دُھوم ان کی ہے ما شآء اللہ
مِٹ گئے آپ مِٹانے والے
لبِ سیراب کا صَدقہ پانی
اے لگی دل کی بُجھانے والے
ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں
راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے
ہو گیا دَھک سے کلیجَا میرا
ہائے رُخصت کی سُنانے والے
خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز
کچھ عجب بھاتے ہیں بھانے والے
کشتۂ دشت حرم جنّت کی
کھڑکیاں اپنے سِرہانے والے
مقطع
کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے
اُٹھ مِرے دُھوم مچانے والے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musaddas Mahzoof
Radif
ے
Total Ashaar
18
Total Misra
36
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish