Naat
پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب
پھر کھنچا دامن دل سُوئے بیابانِ عرب
Hamd
ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شِیریں مَقالی ہاتھ میں
Hamd
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے
Hamd
گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے
مُبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے
Hamd
بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث
تِرے ہی در سے مُسْتَکْمِل ہے یا غوث
Hamd
جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
خُلد کا نام نہ لے بُلبلِ شیدائی دوست
Naat
راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
مصطفٰے ہے مَسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں
Naat
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے