Naat
Sarf Itna Hi Nahin Gham Se Rihaai Mil Jaaye
صرف اتنا ہی نہیں غم سے رہائی مل جائے
Urdu Kalam
مطلع
صرف اتنا ہی نہیں غم سے رہائی مل جائے
وہ جو مل جائیں تو پھر ساری خدائی مل جائے
میں یہ سمجھوں گا مجھے دولتِ کونین ملی
راہ طیبہ کی اگر آبلہ پائی مل جائے
دور رکھنا ہو تو پھر جذب اویسی دے دو
تاکہ مجھ کو بھی تو کچھ کیف جدائی مل جائے
عرش بھی سمجھے ہوئی اس کو بھی معراج نصیب
ان کے دیوانے کے دل تک جو رسائی مل جائے
ہو عطا ہم کو بھی سرکار عبادت کا شعور
ہم کو بھی ذائقہ ناصیہ سائی مل جائے
اللہ اللہ رے اس عارض والشّمس کا نور
جس پہ پڑجائے اسے دل کی صفائی مل جائے
مقطع
جس کو سہنا نہ پڑے پھر الم ہجر و فراق
اخؔتر خستہ جگر کو وہ رسائی مل جائے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Makhboon Mahzoof Maqtoo
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
Radif
مل جائے
Zameen
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع؛ ردیف: مل جائے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
14
Writer
Huzoor Syed Muhammad Madani Ashrafi Jilani
Book
Tajalliyat-e-Sukhan