Naat
Arsh Ki Aql Dang Hai Charkh-e- Mein Aasman Hai
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
Urdu Kalam
مطلع
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے
بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو
ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عطردان ہے
عرش پہ جاکے مرغِ عقل تھک کے گراغش آ گیا
اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے
اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے
گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!
گلبنِ باغِ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے
پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے
شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تاز میں جسے نرم سی اک اڑان ہے
بارِ جلال اٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہوا
یوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان پان ہے
خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ
تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Rajaz Musamman Matwi Makhboon
Arkaan
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
Radif
ہے
Zameen
بحر: رجز مثمن مطوی مخبون؛ ردیف: ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
25
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish