Naat
Tkeen Gi Hasratein Haeerat Se Munh Hum Naasazaaon Ka
تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا
Urdu Kalam
مطلع
تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا
کھلے گا منہ جو محشر میں شفاعت کے خزانوں کا
تسلی آپ خود فرمائیں گے ہم سے غلاموں کی
انہیں کیوں کر گوارا رنج ہوگا سوگواروں کا
دم آخر مدینے کی طرف منہ پھیرلیتے ہیں
تخیّل کتنا پاکیزہ ہے ان کے تشنہ کاموں کا
الہٰی آج تو پیشانیوں کی لاج رہ جائے
چلا ہے قافلہ طیبہ کو پھر آشفتہ حالوں کا
لرزتا ہو نظام ایں و آں جس کے اشارے پر
نمونہ حشر کو کیا کہئے اس گل کی اداؤں کا
کہیں گرنے کو ہوتے ہیں تو قدرت تھام لیتی ہے
نصیبہ تو کوئی دیکھے کسی کے بے قراروں کا
شفاعت کے لئے راہیں ہُویدا کیجئے یعنی
تصور باندھئے ان کی کرم پرور نگاہوں کا
خزانے یہ لٹا دیتے ہیں جب دینے پہ آتے ہیں
زمیں سے آسماں تک شور ہے ان کی عطاؤں کا
اشارہ ان کا ہوجائے کبھی وہ دن خدا لائے
کہ عالم ہم بھی جا دیکھیں مدینے کی فضاؤں کا
توجہ سنّیوں پر کیوں کر نہ ہو بارہ اماموں کی
کہ دامن ہاتھ میں آیا ہے ان کے چار یاروں کا
مقطع
دعا کیجئے خلیؔل آواز یہ بغداد سے آئے
کہ جا ہم نے کیا تجھ کو غلام اپنے غلاموں کا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
کا
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: کا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
22
Writer
Mufti Muhammad Khaleel Barkati
Book
Jamal-e-Khaleel