Naat
Parde Jis Waqt Uthein Jalwa-e-zeba-e-Zebaai Ke
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
Urdu Kalam
مطلع
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے
دُھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی
خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے
حُسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے
گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے
ذرّۂ دشتِ مدینہ کی ضیا مہر کرے
اچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے
پیار سے لے لیے آغوش میں سر رحمت نے
پائے انعام ترے دَر کی جبیں سائی کے
لاشِ احباب اِسی دَر پر پڑی رہنے دیں
کچھ تو ارمان نکل جائیں جبیں سائی کے
جلو گر ہو جو کبھی چشمِ تمنائی میں
پردے آنکھوں کے ہوں پردے تری زیبائی کے
خاکِ پامال ہماری بھی پڑی ہے سرِ راہ
صدقے اے رُوحِ رواں تیری مسیحائی کے
کیوں نہ وہ ٹوٹے دلوں کے کھنڈر آباد کریں
کہ دکھاتے ہیں کمال انجمن آرائی کے
زینتوں سے ہیں حسینانِ جہاں کی زینت
زینتیں پاتی ہیں صدقے تری زیبائی کے
نام آقا ہوا جو لب سے غلاموں کے بلند
بالا بالا گئے غم آفتِ بالائی کے
عرش پہ کعبہ و فردوس و دلِ مومن میں
شمع افروز ہیں اِکے تری یکتائی کے
ترے محتاج نے پایا ہے وہ شاہانہ مزاج
اُس کی گُدڑی کو بھی پیوند ہوں دارائی کے
اپنے ذرّوں کے سیہ خانوں کو روشن کر دو
مہر ہو تم فلکِ انجمن آرائی کے
پورے سرکار سے چھوٹے بڑے اَرمان ہو سب
اے حسنؔ میرے مرے چھوٹے بڑے بھائی کے
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Makhboon Mahzoof Maqtoo
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
Radif
کے
Zameen
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع؛ ردیف: کے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat