Zauq-e-Naat
ذوقِ نعت
Index / Fehrist
کلام کی فہرستبہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے
نسیمِ روح پرور سے مشامِ جاں معطر ہے
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے
ﷲ ﷲ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے
نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے
کہ آج رُک رُک کے خونِ دل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے
کیا خداداد آپ کی اِمداد ہے
اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے
ہم نے تقصیر کی عادت کر لی
آپ اپنے پہ قیامت کر لی
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
کب گوارا ہوئی اﷲ کو رِقّت اُن کی
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہے نثارِ مدینہ
عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا اُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوے نبی اچھی نہیں
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
فقیروں کے حاجت رَوا غوث اعظم
ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم
اے مدینہ کے تاجدار سلام
اے غریبوں کے غمگسار سلام
اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم
بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے ارمان جمال
طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
اس طرف بھی اک نظر اے برق تابان جمال
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف
مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
عروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع
خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
عیبِ کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ
چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
رکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ انبیا میں مصطفےٰ خاص
ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس
جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر
مرحبا عزت و کمالِ حضور
ہے جلالِ خدا جلالِ حضور
ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو توُ پسند
ذاتِ والا پہ بار بار درود
بار بار اور بے شمار درود
سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارھویں تاریخ
السلام اے خسروِ دنیا و دیں
السلام اے راحتِ جانِ حزیں
جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
ہوتے ہیں کچھ اور ساماں الغیاث
باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دشمنانِ اہلِ بیت
اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقشِ کفِ پَا ہو
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کو مشرق سے نکلا آفتاب
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
دے مرے درد کی دوا یا رب
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا
بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میں
تمھیں دُولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ امکاں میں
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
جب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا
چھائے غم کے بادل کالے
میری خبر اے بدرِ دُجیٰ لے
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلیٰ تیرا
وصف کیا خاک لکھے خاک کا پُتلا تیرا
جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ کل ہے درِ والا تیرا
خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا
کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کا
بھرا آتا ہے پانی میرے منہ میں حوضِ کوثر کا
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا
یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا
اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
دشمن ہے گلے کا ہار آقا
لُٹتی ہے مری بہار آقا
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
تو خدا کا خدا ہوا تیرا
ﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
پرُ نور ہے زمانہ صبح شبِ ولادت
پرَدہ اُٹھا ہے کس کا صبح شبِ ولادت
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یا غوث
دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
ہر ذرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
جنابِ مصطفےٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن ہو کہ اُس سے خدا خوش
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
ﷲ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے
نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والے
درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دوا لے
مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے
کرے چارہ سازی زیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو
وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری
عیاں ہونے لگے انوارِ باری
یا ربّ تو ہے سب کا مولیٰ
سب سے اعلی سب سے اولیٰ
ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک