Naat
Ya Rab To Hai Sab Ka Maula
یا ربّ تو ہے سب کا مولیٰ
Urdu Kalam
مطلع
یا ربّ تو ہے سب کا مولیٰ
سب سے اعلی سب سے اولیٰ
تیری ثنا ہو کس کی زباں سے
لائے بشر یہ بات کہاں سے
تیری اک اک بات نرالی
بات نرالی ذات نرالی
تیرا ثانی کوئی نہ پایا
ساتھی ساجھی کوئی نہ پایا
تو ہی دے اور تو ہی دلائے
تیرے دیے سے عالم پائے
تو ہی اوّل تو ہی آخر
تو ہی باطن تو ہی ظاہر
کیا کوئی تیرا بھید بتائے
تو وہ نہیں جو فہم میں آئے
پہلے نہ تھا کیا اب کچھ تو ہے
کوئی نہیں کچھ سب کچھ تو ہے
تو ہی ڈبوئے تو ہی اچھالے
تو ہی بگاڑے تو ہی سنبھالے
تجھ پر ذرّہ ذرّہ ظاہر
نیت ظاہر اِرادہ ظاہر
تجھ سے بھاگ کے جانا کیسا
کوئی اور ٹھکانا کیسا
تو ہی یاد دلا کے بھلائے
تو ہی بھلا کے یاد دلائے
تو ہی چھٹا دے تو ہی ملا دے
تو ہی گما دے تو ہی پتا دے
کوئی نہ تھا جب بھی تھا تو ہی
تھا تو ہی تو ہو گا تو ہی
تیرے دَر سے جو بھاگ کے جائیں
ہر پھر تیرے ہی دَر پر آئیں
تیری قدرت کا ہے نمونہ
نارِ خلیل و بادِ مسیحا
آٹھ پہر ہے لنگر جاری
سب ہیں تیرے دَر کے بھکاری
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhram Abtar
Arkaan
مفعولن مفعولن مفعولن فِع
Radif
بے ردیف
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرم ابتر؛ ردیف: بے ردیف
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
35
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat