Naat
Tum Ho Hasrat Nakaalne Wale
تم ہو حسرت نکالنے والے
Urdu Kalam
مطلع
تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے
میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا
آپ ہیں جب سنبھالنے والے
تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
اور ہوتے ہیں ٹالنے والے
لبِ جاں بخش سے جِلا دل کو
جان مردے میں ڈالنے والے
دستِ اقدس بجھا دے پیاس مری
میرے چشمے اُبالنے والے
ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں
تخت پر خاک ڈالنے والے
روزِ محشر بنا دے بات مری
ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے
بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
اے غریبوں کے پالنے والے
ختم کر دی ہے اُن پہ موزونی
واہ سانچے میں ڈھالنے والے
اُن کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے
پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
ڈوبتوں کو نکالنے والے
خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا
اَرے او نام اچھالنے والے
کام کے ہوں کہ ہم نکمّے ہوں
وہ سبھی کے ہیں پالنے والے
زنگ سے پاک صاف کر دل کو
اندھے شیشے اُجالنے والے
خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے
دل سے کانٹا نکالنے والے
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Khafeef Musaddas Makhboon Mahzoof Maqtoo
Arkaan
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
Radif
والے
Zameen
بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع؛ ردیف: والے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat