Naat
Sang-e-dar-e-Janan Hai Aur Naasiya Farsaayee
سنگِ درِ جاناں ہے اور ناصیہ فرسائی
Urdu Kalam
مطلع
سنگِ درِ جاناں ہے اور ناصیہ فرسائی
یارب میرے سجدوں کی ہوجائے پذیرائی
اُس جلوۂ زیبا کے اللہ رے شیدائی
خود آپ تماشا ہیں خود آپ تماشائی
ہو راہ مدینہ میں یوں بادیہ پیمائی
ہر گام پہ سجدوں کی ہو انجمن آرائی
رہتی ہے نگاہوں میں فردوس کی رعنائی
خاک طیبہ ہے یا سرمۂ بینائی
بخشی ہے مسیحائی تم نے ہی مسیحا کو
تم جانِ مسیحا ہو، تم جانِ مسیحائی
اخلاق و محاسن میں، افضال و محامد میں
خالق نے تمہیں بخشی ہر شان میں یکتائی
بے اُن کے توسط کے، مانگے بھی نہیں ملتا
بے ان کے توسّل کے پرسش ہے نہ شنوائی
ہاں ان کے گداؤں میں، شامل ہیں سلاطیں بھی
ہان ان کے گداؤں پر قربان ہے دارائی
یاد شہِ کوثر میں، دل ہے یوں طرب آگیں
جیسے کہیں بجتی ہو فردوس میں شہنائی
دہلیز پہ روضہ کی نذرانے میں جاں دیدی
اللہ غنی میں اور یہ طُرَّۂ دانائی
مقطع
رحمت نے خلیؔل ان کے دامن میں اماں بخشی
جب بھی مرے عصیاں نے چاہی مری رسوائی
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Ashtar
Arkaan
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
Radif
بے ردیف
Zameen
بحر: ہزج مثمن اشتر؛ ردیف: بے ردیف
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
22
Writer
Mufti Muhammad Khaleel Barkati
Book
Jamal-e-Khaleel