Naat
Jo Ho Sar Ko Rasaayee Un Ke Dar Tak
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
Urdu Kalam
مطلع
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
وہ جب تشریف لائے گھرسے در تک
بھکاری کا بھرا ہے دَر سے گھر تک
دُہائی ناخداے بے کساں کی
ٔکہ سلاکبِ اَلم پہنچا کمر تک
الٰہی دل کو دے وہ سوزِ اُلفت
پُھنکے سنہک جلن پہنچے جگر تک
نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل
دعائںے جا نہںا سکتںے اَثر تک
گزر کی راہ نکلی رہ گزر مںق
ابھی پہنچے نہ تھے ہم اُن کے دَر تک
خدا یوں اُن کی اُلفت مںں گما دے
نہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک
بجائے چشم خود اُٹھتا نہ ہو آڑ
جمالِ یار سے ترنی نظر تک
تری نعمت کے بُھوکے اہلِ دولت
تری رحمت کا پاھسا ابر تک
نہ ہو گا دو قدم کا فاصلہ بھی
الٰہ آباد سے احمد نگر تک
تمہارے حسن کے باڑے کے صدقے
نمک خوار ملاحت ہے قمر تک
شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے
شبستانِ دنیٰ سے اُن کے گھر تک
بلائے جان ہے اب ویرانیِ دل
چلے آؤ کبھی اس اُجڑے گھر تک
نہ کھول آنکھںل نگاہِ شوقِ ناقص
بہت پردے ہںن حسنِ جلوہ گر تک
جہنم مںد دھکں ان نجدیوں کو
حسنؔ جھوٹوں کو یوں پہنچائںن گھر تک
مقطع
ذوق نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musaddas Mahzoof
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
Radif
تک
Zameen
بحر: ہزج مسدس محذوف؛ ردیف: تک
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat