Naat
Seer Gulshan Kaun Dekhay Dasht-e-Taiba Chhor Kar
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
Urdu Kalam
مطلع
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر
سر گزشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے
کس کے دَر پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر
بے لقاے یار اُن کو چین آ جاتا اگر
بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر
کون کہتا ہے دلِ بے مدعا ہے خوب چیز
میں تو کوڑی کو نہ لوں اُن کی تمنا چھوڑ کر
مر ہی جاؤں میں اگر اُس دَر سے جاؤں دو قدم
کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر
کس تمنا پر جئیں یا رب اَسیرانِ قفس
آ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر
بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہو گا کسے
کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر
خلد کیسا نفسِ سرکش جاؤں گا طیبہ کو میں
بد چلن ہٹ کر کھڑا ہو مجھ سے رستہ چھوڑ کر
ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر
حشر میں ایک ایک کا منہ تکتے پھرتے ہیں عدو
آفتوں میں پھنس گئے اُن کا سہارا چھوڑ کر
مرکے جیتے ہیں جو اُن کے دَر پہ جاتے ہیں حسنؔ
جی کہ مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
Radif
چھوڑ کر
Zameen
بحر: رمل مثمن محذوف؛ ردیف: چھوڑ کر
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
23
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat