Naat
Ae Rahat-e-jaan Jo Tere Qadmon Se Laga Ho
اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
Urdu Kalam
مطلع
اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقشِ کفِ پَا ہو
ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو
سایہ بھی تو اک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو
اﷲ کا محبوب بنے جو تمھیں چاہے
اُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو
دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو ترے دَر پر
اُفتادِ دو عالم سے تعلق اُسے کیا ہو
اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر
جس سے رطبِ سوختہ کی نشوونما ہو
ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو
گر عکس فگن دل میں وہ نقشِ کفِ پَا ہو
اُس دَر کی طرف اس لیے میزاب کا منہ ہے
وہ قبلۂ کونین ہے یہ قبلہ نما ہو
بے چین رکھے مجھ کو ترا دردِ محبت
مِٹ جائے وہ دل پھر جسے ارمانِ دوا ہو
یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا
ایمان مجھے پھیرنے کو تو نے دیا ہو
اُس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ
تم جس میں گھڑی بھر کے لیے جلوہ نما ہو
مقبول ہیں اَبرو کے اشارہ سے دعائیں
کب تیر کماندارِ نبوت کا خطا ہو
ہو سلسلہ اُلفت کا جسے زُلفِ نبی سے
اُلجھے نہ کوئی کام نہ پابندِ بَلا ہو
شکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو نہیں سکتا
دل اُن پہ فدا جانِ حسنؔ اُن پہ فدا ہو
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
Radif
ہو
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: ہو
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
27
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat