Naat
Na Ho Aaram Jis Beemar Ko Saare Zamaane Se
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
Urdu Kalam
مطلع
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے
تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم
گزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے
شبِ اسریٰ کے دُولھا پر نچھاور ہونے والی تھی
نہیں تو کیا غرض تھی اِتنی جانوں کے بنانے سے
کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب
لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانے سے
نہ کیوں اُن کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھے
جو اپنی آنکھیں مَلتے ہیں تمہارے آستانے سے
تمہارے تو وہ اِحساں اور یہ نافرمانیاں اپنی
ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے سے
بہارِ خلد صدقے ہو رہی ہے روے عاشق پر
کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے
زمیں تھوڑی سی دے دے بہرِ مدفن اپنے کوچے میں
لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے
پلٹتا ہے جو زائر اُس سے کہتا ہے نصیب اُس کا
ارے غافل قضا بہتر ہے یاں سے پھر کے جانے سے
بُلا لو اپنے دَر پر اب تو ہم خانہ بدوشوں کو
پھریں کب تک ذلیل و خوار دَر دَر بے ٹھکانے سے
نہ پہنچے اُن کے قدموں تک نہ کچھ حسنِ عمل ہی ہے
حسنؔ کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
سے
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: سے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
23
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat