Naat
Dil Dard Se Bismil Ki Tarah Laut Raha Ho
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
Urdu Kalam
مطلع
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو
جو بھیک لیے راہِ گدا دیکھ رہا ہو
گر وقتِ اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں اَدا ہو
ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار
رُتبہ سے تنزل کرے تو ظلِّ ہُما ہو
موقوف نہیں صبح قیامت ہی پہ یہ عرض
جب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو
دے اُس کو دمِ نزع اگر حور بھی ساغر
منہ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو
فردوس کے باغوں سے اِدھر مل نہیں سکتا
جو کوئی مدینہ کے بیاباں میں گما ہو
دیکھا اُنھیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہو
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا
خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کا بھلا ہو
ویراں ہوں جب آباد مکاں صبحِ قیامت
اُجڑا ہوا دل آپ کے جلوؤں سے بسا ہو
ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو
جب دینے کو بھیک آئے سرِ کوے گدایاں
لب پر یہ دعا تھی مرے منگتا کا بھلا ہو
جھُک کر اُنھیں ملنا ہے ہر اِک خاک نشیں سے
کس واسطے نیچا نہ وہ دامانِ قبا ہو
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
ہے ترکِ اَدب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہو
دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ
اے چارۂ دل دردِ حسنؔ کی بھی دوا ہو
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Khafeef Musaddas Makhboon Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن مفاعلن فَعِلن
Radif
ہو
Zameen
بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف؛ ردیف: ہو
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat