Naat
Rahmat Na Kis Tarah Ho Gunahgaar Ki Taraf
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
Urdu Kalam
مطلع
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
جانِ جناں ہے دشتِ مدینہ تری بہار
بُلبل نہ جائے گی کبھی گلزار کی طرف
انکار کا وقوع تو کیا ہو کریم سے
مائل ہوا نہ دل کبھی اِنکار کی طرف
جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی
منہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف
منہ اُس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کی
جس کی نگاہ ہے ترے رُخسار کی طرف
جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیں
چُپ بیٹھے دیکھتے تری رفتار کی طرف
محشر میں آفتاب اُدھر گرم اور اِدھر
آنکھیں لگی ہیں دامنِ دلدار کی طرف
پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے دَر کے سامنے
گردن جھکی ہوئی تری دیوار کی طرف
گو بے شمار جرم ہوں گو بے عدد گناہ
کچھ غم نہیں جو تم ہو گنہگار کی طرف
یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مرا
میں خاک پر نگاہ دَرِ یار کی طرف
کعبے کے صدقے دل کی تمنا مگر یہ ہے
مرنے کے وقت منہ ہو دَرِ یار کی طرف
دے جاتے ہیں مراد جہاں مانگیے وہاں
منہ ہونا چاہیے درِ سرکار کی طرف
روکے گی حشر میں جو مجھے پا شکستگی
دوڑیں گے ہاتھ دامنِ دلدار کی طرف
آہیں دلِ اسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
اور آپ دوڑے آئے گرفتار کی طرف
دیکھی جو بے کسی تو انہیں رحم آ گیا
گھبرا کے ہو گئے وہ گنہگار کی طرف
بٹتی ہے بھیک دوڑتے پھرتے ہیں بے نوا
دَر کی طرف کبھی کبھی دیوار کی طرف
عالم کے دل تو بھر گئے دولت سے کیا عجب
گھر دوڑنے لگیں درِ سرکار کی طرف
آنکھیں جو بند ہوں تو مقدر کھلے حسنؔ
جلوے خود آئیں طالبِ دیدار کی طرف
مقطع
ذوقِ نعت
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
Radif
کی طرف
Zameen
بحر: مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: کی طرف
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
37
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat