Naat
Bakht Khufta Ne Mujhe Rauza Pe Jaane Na Diya
بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
Urdu Kalam
مطلع
بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
آہ قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا
ہائے تقدیر کہ طیبہ مجھے جانے نہ دیا
پاؤں تھک جاتے اگر پاؤں بناتا سر کو
سر کے بل جاتا مگر ضعف نے جانے نہ دیا
اتنا کمزور کیا ضعف قویٰ نے مجھ کو
پاؤں تو پاؤں مجھے سر بھی اٹھانے نہ دیا
سر تو سر جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے
موت نے ہائے مجھے جان سے جانے نہ دیا
حال دل کھول کے دل آہ ادا کر نہ سکا
اتنا موقع ہی مجھے میری قضا نے نہ دیا
ہائے اس دل کی لگی کو میں بجھاؤں کیونکر
فرط غم نے مجھے آنسو بھی گرانے نہ دیا
ہاتھ پکڑے ہوئے لے جاتے جو طیبہ مجھ کو
ساتھ اتنا بھی تو میرے رفقا نے نہ دیا
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
کیا کروں اذن مجھے اس کا خدا نے نہ دیا
حسرت سجدہ یونہی کچھ تو نکلتی لیکن
سر بھی سرکار نے قدموں پہ جھکانے نہ دیا
کوچۂ دل کو بسا جاتی مہک سے تیری
کام اتنا بھی مجھے باد صبا نے نہ دیا
کبھی بیمار محبت بھی ہوئے ہیں اچھے
روز افزوں ہے مرض کام دوا نے نہ دیا
شربت دیدنے اور آگ لگا دی دل میں
تپش دل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا
اب کہاں جائے گا نقشہ ترا میرے دل سے
تہ میں رکھا ہے اسے دل نے گمانے نہ دیا
دلیس سے ان کے جو الفت ہے تو دل نے میرے
اس لئے دلیس کا جنگلہ بھی تو گانے نہ دیا
دلیس کی دھن ہے وہی راگ الا پا اس نے
نفس نے ہائے خیال اس کا مٹانے نہ دیا
نفس بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی
عمل نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا
نفسِ بد کیش ہے کس بات کا دل پہ شاکی
کیا برا دل نے کیا ظلم کمانے نہ دیا
میرے اعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا
میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا
میرے اعمال سیہ نے کیا جینا دو بھر
زہر کھاتا ترے ارشاد نے کھانے نہ دیا
اور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نورؔی
رنگ اپنا ابھی جمنے شعرا نے نہ دیا
مقطع
سامانِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Salim Makhboon Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
Radif
نہ دیا
Zameen
بحر: رمل مثمن سالم مخبون محذوف؛ ردیف: نہ دیا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
43
Writer
Mufti-e-Azam Mustafa Raza Noori
Book
Saman-e-Bakhshish