Naat
Dil Is Hi Ko Kehte Hain Jo Ho Tera Shaidaai
دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو تیرا شیدائی
Urdu Kalam
مطلع
دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو تیرا شیدائی
اور آنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تما شائی
کیوں جان نہ ہو قرباں صدقہ نہ ہو کیوں ایماں
ایماں ملا تم سے اور تم سے ہی جاں پائی
خلقت کے وہ دولہا ہیں محفل یہ انہی کی ہے
ہے انہی کہ دم سے یہ سب انجمن آرائی
یا شاہِ رُسل چشمے بر حالِ گدائے خود
کزحالِ تباہ دے دانائی و بینائی
بے مثل خدا کا تُو بے مثل پیمبر ہے
ظاہر تری ہستی سے اللہ کی یکتائی
آقاؤں کے آقا سے بندوں کو ہو کیا نسبت
احمق ہے جو کہتا ہے آقا کو بڑا بھائی
سینہ میں جو آجاؤ بن آئے مرے دل کی
سینہ تو مدینہ ہو دل اس کا ہو شیدائی
دل تو ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن
پھر کعبہ و طیبہ کی پہلو میں ہو یک جائی
اس طرح سما مجھ میں ہو جاؤں میں گم تجھ میں
پھر تو ہی تماشا ہو اور تو ہی تماشائی
مقطع
اس سالکِؔ بیکس کی تم آبرو رکھ لینا
محشر میں نہ ہو جائے آقا کہیں رسوائی
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hindi Mutaqarib Asram Maqbooz Mahzoof Muzaaf
Arkaan
فِعْلن
Radif
بے ردیف
Zameen
بحر: بحر ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف مضاعف؛ ردیف: بے ردیف
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
20
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik