Naat
Khaak-e-Madina Hoti Mein Khaaksaar Hota
خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
Urdu Kalam
مطلع
خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا
آقا اگر کرم سے طیبہ مجھے بُلاتے
روضہ پہ صدقہ ہوتا ان پر نثار ہوتا
وہ بیکسوں کے آقا بے کس کو گر بُلاتے
کیوں سب کی ٹھکروں پرپڑ کر وہ خوار ہوتا
طیبہ میں گر میسّردو گز زمین ہوتی
ان کے قریب بستا دل کو قرار ہوتا
مر مٹ کے خوب لگتی مٹی مرے ٹھکانے
گر ان کی رہ گزر میں میرا مزار ہوتا
یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد
اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا
بے چین دل کو اب تک سمجھا بجھا کے رکھا
مگر اب تو اس سے آقا نہیں انتظار ہوتا
مقطع
سالکؔ ہوئے ہم ان کے وہ بھی ہوئے ہمارے
دل مضطرب کو لیکن نہیں اعتبار ہوتا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mashkool Musakkan
Arkaan
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
Radif
ہوتا
Zameen
بحر: رمل مثمن مشکول مسکن؛ ردیف: ہوتا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik