Naat
Bakhuda Khuda Se Hai Woh Juda Jo Habib-e-haq Pe Fida Nahin
بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں
Urdu Kalam
مطلع
بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں
وہ بشر ہے دین سے بے خبر جو رہِ نبی ﷺ میں گما نہیں
اُسے ڈھوندے کیوں کوئی دربدر وہ ہیں جان سے بھی قریب تر
وہ نہاں بھی ہے وہ عیاں بھی ہے وہ چنیں بھی ہے وہ چناں بھی ہے
وہی جب بھی تھا وہی اب بھی ہے وہ چھپا ہے پھر بھی چھپا نہیں
تیری ذات میں جو فنا ہوا وہ فنا سے نو کا عدد بنا
جو اسے مٹائے وہ خود مٹے وہ ہے باقی اس کو فنا نہیں
دو جہاں میں سب پہ ہیں وہ عیاں دو جہاں پھر انسے ہوں کیوں نہاں
وہ کسی سے جب کہ نہیں چھپے تو کوئی بھی انسے چھپا نہیں
ہر اک ان سے ہے وہ ہر اک میں ہیں وہ ہیں ایک علم حساب کے
بنے دو جہاں کی وہی بِنا وہ نہیں جو ان سے بنا نہیں
کوئی مثل ان کا ہو کس طرح وہ ہیں سب کے مبدا و منتہےٰ
نہیں دوسرے کی جگہ یہاں کہ یہ وصف دو کو ملا نہیں
تیرے در کو چھوڑ کدھر پھروں تیرا ہو کہ کس کا منہ تکوں
تو غنی ہے سب تیرے در کے سگ وہ نہیں جو تیرا گدا نہیں
کرو لطف مجھ پہ خسروا کہ چھڑا دو غیر کا آسرا
نہ تکوں کسی کو تیرے سوا کہ کسی سے میرا بھلا نہیں
یہ تمہارا سالکؔ بے نوا مرض گناہ میں ہے مبتلا
مقطع
تم ہی اس بُرے کو کرو بھلا کہ کوئی تمہارے سوا نہیں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Kamil Musamman Salim
Arkaan
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
Radif
نہیں
Zameen
بحر: کامل مثمن سالم؛ ردیف: نہیں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
19
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik