Naat
Fzaa Ki Khushboo Batao Rahi Hai Koi Gaya Hai Abhi Abhi
فضاء کی خوشبو بتا رہی ہے کوئی گیا ہے ابھی ابھی
Urdu Kalam
مطلع
ابھی ابھی
فضاء کی خوشبو بتا رہی ہے کوئی گیا ہے ابھی ابھی
مہک رہے ہیں وہ سارے راستے نبیﷺ جو گذرے ابھی ابھی
چمک گیا ہے ضیاء سے ان کی جہان بھر کا ہر ایک ذرہ
گزر گئے ہیں مکاں میں ایسے حسین لمحے ابھی ابھی
رضؔا کی نعتوں کے شعر سن کر عجب یہ احساس ہو رہا ہے
نزولِ قرآن سے جھڑے ہیں وحی کے کلمے ابھی ابھی
نبیّ رحمت شفیع امّتﷺ ہر ایک نعمت کے ہیں یہ مالک
قلم سے نکلے ہیں واہ کتنے حسین جملے ابھی ابھی
حضورﷺ کی جالیوں کی قربت مشام جاں کو سرور بخشے
دکھا گئے ہیں قریب ہی سے کرم کے جلوے ابھی ابھی
نبیﷺ کے چرچے رہے ہمیشہ نبیﷺ کے دشمن پہ ایسے بھاری
پڑے ہوئے ہیں یہ خاک بن کے زمین پہ جل کے ابھی ابھی
نبیﷺ کے در پر کھڑا ہے حافؔظ سکون سے بھی وقار سے بھی
مقطع
سُنا ہے رحمت کے کچھ فرشتے گئے ہیں مل کے ابھی ابھی
(۲۳ رجب المرجب ۱۴۳۹ھ/ ۱۰ اپریل ۲۰۱۸ء)نزیل موریشس
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Jameel Musamman Salim
Arkaan
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
Radif
ابھی ابھی
Zameen
بحر: جمیل مثمن سالم؛ ردیف: ابھی ابھی
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Ibn-e-Khaleel Ahmad Miyan Hafiz Al-Barkati
Book
Hadaiq-e-Barakat