Naat
Hain Mazhar Zaat Haq Rasool Akram
ہیں مظہر ذات حق رسول اکرم
Urdu Kalam
مطلع
رباعیات
ہیں مظہر ذات حق رسول اکرم
مختار و خلیفۂ خدائے عالم
صرف ان کے سبب اُلو العزم ہوئے
عیسیٰ موسیٰ خلیل و نوح و آدم
دیگر
عالم کا انہیں خدا نے سلطان کیا
جبریل امین کو ان کا دربان کیا
ہر چیز کا اختیار ان کو دے کر
کونین کو حق نے ان کا مہمان کیا
دیگر
یا رب مرے دل میں عشق اپنا دے دے
حب نبی کا سر میں سودادے دے
ہے بے سروسامان جمؔیل رضوی
رہنے کا مدینے میں ٹھکانا دے دے
دیگر
سرکار کا فیض زیرو بالا دیکھا
ہر چیز میں نور شاہ والا دیکھا
ہے عرش سے فرش تک اسی کا جلوہ
جب غور کیا مدینے والا دیکھا
دیگر
شاہا تری رحمت کا اشارہ ہوجائے
روشن مرے بخت کا ستارہ ہوجائے
اس صانع مطلق کو جو آئی پسند
وہ شکل مرے آنکھ کا تارہ ہوجائے
دیگر
بتلائے کوئی نبی کا دیکھا سایہ
سائے کا بھی ہوتا ہے کسی جا سایہ
جب سایۂ نور ازلی وہ ٹھہرا
پڑتا کیوں کر زمیں پر اس کا سایہ
دیگر
کیوں حشر سے ڈر جائیں گدایان نبی
کیوں قبر میں گھبرائیں گدایان نبی
دنیا میں جو ہیں حبیب حق کے بندے
تا حشر ہیں ان کے سر پہ دامان نبی
دیگر
ہیں کعبۂ کونین رسول الثقلین
ہیں قبلۂ دارین نبی الحرمین
کیوں دونوں جہاں نہ اُن کے در پر مانگیں
ہیں قاسمِ کُلُّ شَئ جدا لحسنین
دیگر
کیوں حشر میں بگڑی ہوئی حالت ہوگی
کب ان کے غلاموں پہ قیامت ہوگی
کیا خوف کریں نار جہنم سے جمؔیل
مقطع
ہم پر تو وہاں نبی کی رحمت ہوگی
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Khafeef Musaddas Makhboon Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن مفاعلن فَعِلن
Radif
بے ردیف
Zameen
بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف؛ ردیف: بے ردیف
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
46
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish