Naat
Lahad Mein Ishq-e-rukh Shah Ka Daagh-e- Le Ke Chale
لحد میں عشقِ رُخ شہ کا داغ لے کے چلے
Urdu Kalam
مطلع
لحد میں عشقِ رُخ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سُنی تھی چراغ لے کے چلے
ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
جنان بنےگی محبّانِ چار یار کی قبر
جو اپنے سینہ میں یہ چار باغ لے کے چلے
گیے، زیارتِ در کی، صدر آہ واپس آئے
نظر کے اشک پیچھے دل کا داغ لے کے چلے
مدینہ جانِ جنان وجہاں ہے وہ سن لیں
جنہیں جنون جناں سوئے زاغ لے کے چلے
ترے سحاب سخن سے نہ نم کہ نم سے بھی کم
بلیغ بہر بلاغت بلاغ لے کے چلے
حضور طیبہ سے بھی کوئی کام بڑھ کر ہے
کہ جھوٹےحیلۂ مکر و فراغ لے کے چلے
تمہارے وصف جمال و کمال میں جبریل
محال ہے کہ مجال و مساغ لے کے چلے
گلہ نہیں ہے مُرید رشید شیطاں سے
کہ اس کے وسعت علمی کا لاغ لے کے چلے
ہر ایک اپنےبڑے کی بڑائی کرتا ہے
ہر ایک مغجچہ مغ کا ایاغ لے کے چلے
مگر خدا پہ جو دھبّہ وروغ کا تھوپا
یہ کس لعیں کی غلامی کا داغ لے کے چلے
وقوع کذب کے معنی دُرست اور قدوس
ہیے کی پھوٹے عجب سبز باغ لے کے چلے
جہاں میں کوئی بھی کافر سا کافر ایسا ہے
کہ اپنے رب پہ سفاہت کا داغ لے کے چلے
پڑی ہے اندھے کو عادت کہ شور بے ہی سے کھائے
بیڑ ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
خبیث بہر خبیثہ خبیثہ بہر خبیث
کہ ساتھ جنس کو بازو وکلاغ لے کے چلے
جو دین کوؤں کو دے بیٹھے ان کو یکساں ہے
کلاغ لے کے چلے یا الاغ لے کے چلے
رضؔا کسی سگِ طیبہ کے پاؤں بھی چومے
تم اور آہ کہ اتنا دماغ لے کے چلے
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mujtass Musamman Makhboon Mahzoof
Arkaan
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
Radif
لے کے چلے
Zameen
بحر: مجتث مثمن مخبون محذوف؛ ردیف: لے کے چلے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
35
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish