Naat
Mujh Ko Pohancha De Khuda Ahmad Mukhtar-e- Ke Paas
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
Urdu Kalam
مطلع
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حال دل عرض کروں سید ابرار کے پاس
جس کو دیکھو وہ اسی در پہ چلا آتا ہے
بھیڑ ہے شاہ و گدا کی در سرکار کے پاس
بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں
سب خزانے ہیں مرے مالک و مختار کے پاس
دولت و فضل و کرم نعمت و جاہ و اقبال
کون سی چیز نہیں ہے مرے سرکار کے پاس
بادشاہان جہاں دست نگر ہیں ان کے
ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں دربار کے پاس
یہ محبت ہے کہ آواز اغثنی سن کر
دوڑے آتے ہیں وہ ہر ایک گرفتار کے پاس
دل پہ کندہ ہے ترا اسم گرامی شابا
زہدو طاعت سے نہیں کچھ بھی گنہگار کے پاس
یا خدا حشر ہے یا عید ہے مشتاقوں کی
کہ چلے آتے ہیں وہ طالب دیدار کے پاس
یارسول عربی میری شفاعت کرنا
پیش اعمال ہوں جب واحد قہار کے پاس
دیکھ کر روضۂ پرنور کو ایسا تڑپوں
دن نکل جائے مرا آپ کی دیوار کے پاس
ہے شہید ی کی طرح عرض جمیل رضوی
میری تربت بھی بنے آپ کی دیوار کے پاس
مقطع
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hindi Mutaqarib Asram Maqbooz Mahzoof Muzaaf
Arkaan
فِعْلن
Radif
کے پاس
Zameen
بحر: بحر ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف مضاعف؛ ردیف: کے پاس
Sanf
حمد
Script
Urdu
Total Misra
23
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish