Naat
Mujhe Ae Saaqi Kausar Ata Keeje Woh Mahfil Mein
مجھے اے ساقی کوثر عطا کیجے وہ محفل میں
Urdu Kalam
مطلع
اَدْرِکَاْسًا ونَاوْلِھَا
مجھے اے ساقی کوثر عطا کیجے وہ محفل میں
نہ کوئی آرزو باقی رہے پینے کی پھر دل میں
میری ہر فکر میں اَحمد نگاہ و فہم میں احمد
کوئی بھی آنہیں سکتا مِرے اب دل کے مَحْمِلْ میں
کرم بھی ہے عطا بھی ہے سخا بھی ہے غنا بھی ہے
یہ موتی مل گئے مجھ کو سبھی طیبہ کے ساحل میں
جب ان کا نام لیتا ہوں نِدَا سے کام لیتا ہوں
مری ناؤ نہیں آتی کسی لمحے بھی مشکل میں
فقط الفت، محبت ہے موّدَث آپ کی آقاﷺ
کوئی رستہ نہیں باقی کسی کا بھی مرے دل میں
رضا جو آپ نے مانگا اَدِرْ کَاْسًا ونَاولْھَا
ہمیں بھی ساتھ کر لیجئے اسی فرمانِ نَاوِلْ میں
تُجھے دیوانگئ عشق ہی محشر میں کافی ہے
مقطع
کہاں گم ہوگیا حافؔظ تو راہ و رسمِ منزل میں
(۷ ربیع النور شریف ۱۴۳۹ھ، ۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mashkool Musakkan
Arkaan
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
Radif
میں
Zameen
بحر: رمل مثمن مشکول مسکن؛ ردیف: میں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Ibn-e-Khaleel Ahmad Miyan Hafiz Al-Barkati
Book
Hadaiq-e-Barakat