Naat
Mujrim Hain Shaha! De Ga Hamein Kaun Amaan Aur
مجرم ہیں شہا! دے گا ہمیں کون اماں اور
Urdu Kalam
مطلع
مجرم ہیں شہا! دے گا ہمیں کون اماں اور
برگشۃ نصیبوں کا ٹھکانہ ہے کہاں اور
زاہد! تِری دنیا ہے الگ میرا جہاں اور
جنت کا سماں اور ہے طیبہ کا سماں اور
گو پردۂ کثرت رُخِ روشن پہ ہے لیکن
وحدت کی تجلّی ہوئی جاتی ہے عیاں اور
سجدے ہیں میسّر جنہیں طیبہ کی زمیں پر
اُن عشق کے بندوں کی جبیں کا ہے نشاں اور
اے دامنِ محبوبِﷺ مدینہ تِرے صَدقے
مِلتی نہ قیامت میں کہیں ہم کو اماں اور
گو دِل کو سکوں ہجرِ مدینہ میں ہے لیکن
جل بجھتی ہے جب شمع تو اٹھتا ہے دھواں اور
مقطع
ہے بزمِ سخن کیف میں ڈوبی ہوئی اختؔر
اِک نعت پھڑکتی ہوئی اے زمزمہ خواں اور
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
Radif
اور
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: اور
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
14
Writer
Syed Marghoob Akhtar Al-Hamidi
Book
Naat Mahal