Naat
Nabi Ke Noor Se Aalam Ko Jagmagaanaa Tha
نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا
Urdu Kalam
مطلع
نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا
نبی کی ذات عرشِ استوا بنانا تھا
مکان سے انہیں لا مکاں بنانا تھا
دِکھانی شان تھی، معراج اِک بہانہ تھا
نبی کے جلوہ قدرت ہیں یہ مکین و مکاں
نبی کے سایۂ رحمت ہیں یہ زمین و زماں
یہ آسمان یہ شمس و قمر یہ سارا جہاں
سبھی نے ان کی اطاعت کا حکم مانا تھا
قدم حرم سے اُٹھا بیتِ اقدس میں پہنچا
عجیب لُطفِ تقریب تھا، قابَ قَوسین کا
خطاب کر کے اِلیٰ عبدِہِ فَاَوحیٰ کا
عظیم رفعتِ محبوب ِ حق دِکھانا تھا
حبیبِ حق پہ ہوئی اسریٰ بِعبدہٖ نازل
یہی وہ عبد ہیں، ہے جن کی عبدیّت کامل
صفاتِ حق کے خلائق میں مظہر و حامل
انہی کو خلق کا مختارِ کُل بنانا تھا
رضائے احمدِ مُر سل، رضا خدا کی ہے
عطا حبیب کے ہاتھوں، عطا خدا کی ہے
اطاعت اُن کی ہی، بس بندگی خدا کی ہے
مطاعِ خلق محمّد کا آستانا تھا
وضو، بُراق، امامت رُسُل کی اقصٰی میں
عروج سبعِ سَمٰوات عرش و سدرہ میں
ندائے اُدْن میں قوسین اور فَاَوحیٰ میں
بس ایک چشمِ زدن میں یہ آنا جانا تھا
خدا کے بعد ہے، سب سے بزرگ ان کی شان
تمام مُلکِ خدا، مُلکِ شاہِ کون و مکاں
مقطع
اَنا وَاَنْتَ سے واضح یہی ہُوا بُرہاںؔ
دِکھانی شان تھی، معراج اِک بہانہ تھا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mujtass Musamman Makhboon Mahzoof Musakkan
Arkaan
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن
Radif
تھا
Zameen
بحر: مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن؛ ردیف: تھا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
28
Writer
Burhan-e-Millat Burhan-ul-Haq Jabal Puri
Book
Jazbat-e-Burhan