Naat
Noor-e-haq Jalwa Numa Tha Mujhe Maloom Na Tha
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا
Urdu Kalam
مطلع
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا
شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
بارہا جس نے کہا تھا اَنَا بَشَرٌاس نے
مَن دَاٰنِیْ بھی کہا تھا مجھے معلوم نہ تھا
بکریاں جس نے چرائیں تھیں حلیمہ تیری
عرش پر وہی گیا مجھے معلوم نہ تھا
جس نے امت کیلئے رو کے گزاریں راتیں
وہ ہی محبوبِ خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
چاند اشارے سے پھٹا حکم سے سورج لوٹا
مظہرِ ذاتِ خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
مقطع
دیکھا جب قبر میں اس پردہ نشیں کو تو کھُلا
دل سالکؔ میں رہا تھا مجھے معلوم نہ تھا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Salim Makhboon Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
Radif
مجھے معلوم نہ تھا
Zameen
بحر: رمل مثمن سالم مخبون محذوف؛ ردیف: مجھے معلوم نہ تھا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
12
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik