Naat
Poochhte Kya Ho Arsh Par Yun Gaye Mustafa Ke Yun
پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
Urdu Kalam
مطلع
پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں
قصرِ دَنیٰ کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیں
رُوحِ قدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سُنا کہ یوں
میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گمیں
صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں
ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا
چھک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں
دل کو دے نور و داغِ عشق پھر میں فدا دو نیم کر
مانا ہے سن کے شقِ ماہ آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں
دل کو ہے فکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور
اے میں فدا لگا کر ایک ٹھوکر اسے بتا کہ یوں
باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
کام ہے ان کے ذِکر سے خیر وہ یوں ہوا کہ یوں
جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حسن کیوں کر آئے
لا اسے پیشِ جلوۂ زمزمۂ رؔضا کہ یوں
مقطع
(حدائقِ بخشش)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Rajaz Musamman Matwi Makhboon
Arkaan
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
Radif
کہ یوں
Zameen
بحر: رجز مثمن مطوی مخبون؛ ردیف: کہ یوں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
17
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish