Naat
Pul Se Utaaro Raah Guzar Ko Khabar Na Ho
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
Urdu Kalam
مطلع
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا مِرے جگر سے غمِ روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو
فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک روی
یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مرتضیٰ عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
ایسا گما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آ دل! حرم کو روکنے والوں سے چھپ کے آج
یوں اٹھ چلیں کہ پہلو و بَر کو خبر نہ ہو
طیرِ حرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تارِ نظر کو خبر نہ ہو
اے خار طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یوں دل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو
اے شوقِ دل یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو
ان کے سوا رؔضا کوئی حامی نہیں جہاں
گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
Radif
کو خبر نہ ہو
Zameen
بحر: مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: کو خبر نہ ہو
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
23
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish