Naat
Saba Ba-sad Shaan Dilrubaayee Sanaaye Rab Gngnaa Rahi Hai
صبا بصد شان دلربائی ثنائے رب گنگنا رہی ہے
Urdu Kalam
مطلع
صبا بصد شان دلربائی ثنائے رب گنگنا رہی ہے
کچھ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ مدینے سے آرہی ہے
مجھے مبارک یہ ناتوانی سہارا دینے وہ اٹھ کے آئے
خرد ہے حیراں کہ اِک توانا کو نا توانی اُٹھا رہی ہے
میں ان عنایات پر نچھاور کبھی نہ رکھا رہین ساغر
نگاہ نوری کا پھر کرم ہے نگاہ نوری پلا رہی ہے
کہیں نہ رہ جائیں ہم خود اپنی ہی حسرتوں کا مزار بن کر
ہماری شمع اُمید کی لو حضور اب جھلملا رہی ہے
زیارت قبر مصطفیٰﷺ ہے شفاعت مصطفیٰﷺ کی ضامن
ہم عاصیوں کو بڑی محبت سے ان کی رحمت بلا رہی ہے
سیاہ زلفیں سیاہ کملی سیاہ بختوں کو ہو مبارک
سیاہ بختی کو رحم والی سیاہی کیسا چھپا رہی ہے
حضورﷺ مجھ سے وہ کام لیجئے جو قلب انور کو شاد کردے
یہی مری آرزو رہی ہے یہی مری التجا رہی ہے
نہ کیوں ہو وہ بخت کا سکندر کہ جس کی جاں اس کے تن سے باہر
گئی تو بہر خدا گئی ہے رہی تو بہر خدا رہی ہے
مقطع
نگاہ ادراک میں دیار نبیﷺ کے جلوے سماگئے ہیں
نہ پوچھو اخؔتر ہماری بزم خیال کیوں جگمگا رہی ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Jameel Musamman Salim
Arkaan
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
Radif
ہے
Zameen
بحر: جمیل مثمن سالم؛ ردیف: ہے
Sanf
حمد
Script
Urdu
Total Misra
18
Writer
Huzoor Syed Muhammad Madani Ashrafi Jilani
Book
Tajalliyat-e-Sukhan