Naat
Sarkar Karam Ke Sadqa Mein Khwaja Ka Rauza Dekh Liya
سرکار کرم کے صدقہ میں خواجہ کا روضہ دیکھ لیا
Urdu Kalam
مطلع
سرکار کرم کے صدقہ میں خواجہ کا روضہ دیکھ لیا
خواجہ کی غریب نوازی کا دربار میں نقشہ دیکھ لیا
سرکار میں جھولی پھیلا کر، مانگوں تو کیا کچھ پاؤ گے
اللہ کے فضل و رحمت سے دیتے ہیں خواجہ دیکھ لیا
جو لے کے تمنّا آتا ہے، وہ لے کے مُرادیں جاتا ہے
اندازِ طلب بھی دیکھ لیا، اندازِ عطا بھی دیکھ لیا
رحمت کے خزانے بھی بے حد، خواجہ کی سخاوت بھی بے حد
دیتے تو نہیں دیکھا ہے مگر، دامن جو بھرا تھا دیکھ لیا
دربار معینی سے بے شک، محروم رہا جو مُنکر تھا
کتنے ہی تمنّا والوں کو واصل بہ تمنّا دیکھ لیا
مسکین و تونگر سب یکساں، جذبات سے کھنچتے آتے ہیں
اِک قبر میں سونے والے کا، انسانوں پہ قبضہ دیکھ لیا
عشّاق کا مجمع روضہ پر، پروانوں سا اُمڈا آتا ہے
کیا شمع جمالِ انور میں سرکار کا روضہ دیکھ لیا
جس نور کا جلوہ کعبہ اور طیبہ کو منوّر کرتا ہے
بغداد میں اور اجمیر میں بھی اُس نور کا جلوہ دیکھ لیا
جتنے بھی ولی ہیں عالم میں، اغواث بھی ہیں، اقطاب بھی ہیں
ہر غوث و ولی، ابدال پہ ہے فیضانِ مدینیہ دیکھ لیا
ایک دھوم ہے اللہ والوں کی، اِک شور مچا ہے باہو کا
نیکوں کے سبب بدکاروں پر، انعام ولی کا دیکھ لیا
مردوں کے ہجومِ بے حد میں، ہیں عورتیں بھی اور بچے بھی
تہذیب و حیا کا خوں ہم نے، ان آنکھوں سے ہوتا دیکھ لیا
اس پر بھی کرم نے خواجہ کے محروم کسی کو کب چھوڑا
روتے ہوئے آنے والے کو ، ہنستا ہُوا جاتا دیکھ لیا
بُرہانؔ پر بھی، حامد پر بھی، حافظ پہ علی احمد پر بھی
اور جان محمد اور ضیاء پر نوری کا صدقہ دیکھ لیا
مقطع
حاضر بھی ہوئے چادر تھامے، بوسے بھی لئے ، طواف کیا
مانگی بھی دُعا، بُرہاںؔ پہ کرم تھا غوث و رضا کا دیکھ لیا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hindi Mutaqarib Musaddas Muzaaf
Arkaan
فعول فعْل فعولن فعول فعلن فع
Radif
دیکھ لیا
Zameen
بحر: بحر ہندی/ متقارب مسدس مضاعف؛ ردیف: دیکھ لیا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
28
Writer
Burhan-e-Millat Burhan-ul-Haq Jabal Puri
Book
Jazbat-e-Burhan