Naat
Shukr Tera Ho Sake Kis Tarah Rehman Rasool
شکر تیرا ہوسکے کس طرح رحمٰن رسول
Urdu Kalam
مطلع
یا الہٰی عشق مولیٰ میں مجھے ایسا گما
تا ابد نکلے نہ میرے دل سے ارمان رسول
امر ان کا امر رب ہی نہی اُن کی نہی رب
وہ ہے فرمان الہٰی جو ہے فرمان رسول
شکر تیرا ہوسکے کس طرح رحمٰن رسول
مجھ سے عاصی تو کیا تونے ثناخوانِ رسول
دو جہاں میں آفتاب ہاشمی کی ہے ضیا
آئینہ ہیں دہر و عالم پیش چشمان رسول
ہیں ملک روضے پہ حاضر داب شاہی کےلیے
ورنہ خود مولیٰ تعالیٰ ہے نگہبان رسول
بھول جائے با غ و گل کو چھوڑ دے سیرچمن
عندلیب زار گر دیکھے بیابان رسول
ان کے در سے بھیک پاتے ہیں سلاطین جہاں
بادشاہان زمانہ ہیں گدایان رسول
ایک ہم ہیں جو فراق و ہجر میں تڑپا کریں
ایک وہ ہیں جو بنے قسمت سے دربان رسول
چل دیے جو روضۂ شہ کی زیارت کےلیے
ہوگئے گھر سے نکلتے ہی وہ مہمان رسول
ہے بیابان مدینہ جان اہل خلد کی
آبروئے جنت الماوٰی گلستان رسول
سوف یعطیک فترضی مہرہے اس بات پر
خلد میں بے شبہ جائیں گے گدایان رسول
اس طرح آئیں گے ان کے نام لیوا حشر میں
لب پہ ہوگا نام حق ہاتھوں میں دامان رسول
یا الہٰی آفتاب حشر جب تیزی دکھائے
سایہ گستر ہوگنہگاروں پہ دامان رسول
کربلا والوں کا صدقہ شاہ جیلاں کا طفیل
عاصیوں کے جرم دھودے چشم گریان رسول
ان کے قدموں پر کیے قربان اپنے جان و مال
آفریں صد آفریں اے جاں نثار ان رسول
منکر ان مجلس میلاد سے کہہ دے کوئی
محفل اقدس میں آکر دیکھ لیں شان رسول
جس طرح واصف ہے دنیا میں جمیل قادری
حشر میں بھی ہو یوہیں یارب ثنا خوانِ رسول
مقطع
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
Radif
رسول
Zameen
بحر: رمل مثمن محذوف؛ ردیف: رسول
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
35
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish