Naat
Sona Jangal Raat Andheeree Chhayi Bdlee Kali Hai
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
Urdu Kalam
مطلع
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے
سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے
آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کچھ گالی ہے
جگنو چمکے پتّا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑ کے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیا بیتالی ہے
بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منھ
مینھ نے پھسلن کردی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے
ساتھی ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے
دنیا کو تو کیا جانے یہ بِس کی گانٹھ ہے حرّافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے
شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کُش
اس مُردار پہ کیا للچایا دنیا دیکھی بھالی ہے
وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے
مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضؔا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Arkaan
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
Radif
ہے
Zameen
بحر: رمل مثمن محذوف؛ ردیف: ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
31
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish