Naat
Shahenshah-e-do Aalam Ka Karam Hai
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
Urdu Kalam
مطلع
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
مرے دل کو میسر اُن کا غم ہے
یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں
یہ دنیا دل کی رشک صد ارم ہے
بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے
سر عرشِ بریں جن کا قدم ہے
یہ دربارِ نبی ہے جس کے آگے
نہ جانے عرشِ اعظم کب سے خم ہے
ترس کھائو میری تشنہ لبی پر
مری پیاس اور اک جام؟ کم ہے
دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے
بڑھے گی اور بے تابی ستم ہے
مقطع
یہاں قابو میں رکھیے دل کو اخترؔ
یہ دربار شہنشاہِ امم ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mujtass Musaddas Makhboon
Arkaan
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن
Radif
ہے
Zameen
بحر: مجتث مسدس مخبون؛ ردیف: ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
14
Writer
Taj-ush-Shariah Mufti Akhtar Raza Qadri Azhari
Book
Safina-e-Bakhshish