Naat
Dar-e-Ahmad Pe Ab Meri Jabeen Hai
درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے
Urdu Kalam
مطلع
درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے
مجھے کچھ فکر دو عالم نہیں ہے
مجھے کل اپنی بخشش کا یقیں ہے
کہ الفت ان کی دل میں جاگزیں ہے
بہاریں یوں تو جنت میں ہیں لاکھوں
بہارِ دشت طیبہ پر کہیں ہے
میں وصفِ ماہِ طیبہ کر رہا ہوں
بلا سے گر کوئی چیں بر جبیں ہے
عبث جاتا ہے تو غیروں کی جانب
کہ بابِ رحمت رحماں یہیں ہے
گنہگارو! نہ گھبرائو کہ اپنی
شفاعت کو شفیع المذنبیں ہے
فریبِ نفس میں ہمدم نہ آنا
بچے رہنا یہ مارِ آستیں ہے
مقطع
دلِ بیتاب سے اخترؔ یہ کہہ دو
سنبھل جائے مدینہ اب قریں ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musaddas Mahzoof
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
Radif
ہے
Zameen
بحر: ہزج مسدس محذوف؛ ردیف: ہے
Sanf
حمد
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Taj-ush-Shariah Mufti Akhtar Raza Qadri Azhari
Book
Safina-e-Bakhshish