Naat
Ya Rab Mere Dil Mein Hai Tamannaaye Madina
یا رب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ
Urdu Kalam
مطلع
یا رب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ
ان آنکھوں سے دکھلا مجھے صحرائے مدینہ
نکلے نہ کبھی دل سے تمنائے مدینہ
سر میں رہے یا رب مرے سو دائے مدینہ
ہر ذرہ میں ہے نور تجلائے مدینہ
ہے مخزن اسرار سراپائے مدینہ
ایسا مری نظروں میں سما جائے مدینہ
جب آنکھ اٹھاؤں تو نظر آئے مدینہ
پھرتے ہیں یہاں ہند میں ہم بے سروساماں
طیبہ میں بلالو ہمیں آقا ئے مدینہ
اس درجہ ہیں مشتاق زیارت مری آنکھیں
دل سے یہ نکلتی ہے صدا ہائے مدینہ
یاد آتا ہے جب روضۂ پر نور کا گنبد
دل سے یہ نکلتی ہے صدائے مدینہ
میں وجد کے عالم میں کروں چاک گریبان
آنکھوں کے مرے سامنے جب آئے مدینہ
کیوں کر نہ جھلکیں خلق کے دل اس کی طرف کو
ہے عرش الہٰی بھی تو جو یائے مدینہ
سر عرش کا خم ہے ترے روضے کے مقابل
افلاک سے اونچے ہیں مکانہائے مدینہ
طیبہ کی زمیں جھاڑتے آتے ہیں ملائک
جبریل کے پرفرش معلائے مدینہ
قرآن قسم کھاتا نہ اس شہر کی ہرگز
گر ہوتا نہ وہ گل چمن آرائے مدینہ
سلطان دو عالم کی مرے دلمیں ہے تربت
ہوتے ہیں یہ کعبے سے سنخہائے مدینہ
کیوں گور کا کھٹکا ہو قیامت کا ہو کیا غم
شیدائے مدینہ ہوں میں شیدائے مدینہ
کیوں طیبہ کو یثرب کہو ممنوع ہے قطعاً
موجود ہیں جب سیکڑوں اسمائے مدینہ
جاتے نہیں حج کرکے جو کعبے سے مدینہ
مردود شیاطین ہیں اعدائے مدینہ
بلوا کے مدینے میں جمیل رضوی کو
سگ اپنا بنا لو اسے مولائے مدینہ
مقطع
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
Radif
مدینہ
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: مدینہ
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
35
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish