Naat
Jamaal O Husn Ka Manzar, Na Yeh Kam Hai Na Woh Kam Hai
جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
Urdu Kalam
مطلع
نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
نوال و جُود کا مظہر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
نبوت اِنﷺ کی اعلیٰ ہے، رسالت اِنﷺ کی بالا ہے
زمانہ دیکھ لے آکر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
عطا اِن کی ہے دنیا میں، شفاعت اِن کی اُخریٰ میں
یہی ہیں صاحبِ کوثر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
خزانہ اِن کا بھاری ہے، عطا و فیض جاری ہے
سخی یہ لُطف کا محور، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہے
چمک ان کی زمانے میں، دمک دل کے خزانے میں
یہ ساری خلق سے برتر، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہے
ہر اک صاحب ستارہ ہے، ولی ہر ایک پیارا ہے
ہیں دونوں باغ کے گل تر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
جسے ہے اُلفتِ کامل، غلامی ہے اُسے حاصل
مقطع
تجھے حافظِ سرِ منبر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
(۲ اگست ۲۰۱۵ء ۱۶ شوال ۱۴۳۶ھ)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
ہے نہ وہ کم ہے
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: ہے نہ وہ کم ہے
Sanf
منقبت
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Ibn-e-Khaleel Ahmad Miyan Hafiz Al-Barkati
Book
Hadaiq-e-Barakat