Naat
Josh-e-wahshat Ne Kya Baadiya Paeemaa Mujh Ko
جوشِ وحشت نے کیا بادیہ پیما مجھ کو
Urdu Kalam
مطلع
جوشِ وحشت نے کیا بادیہ پیما مجھ کو
خلد سے لائی ہے طیبہ کی تمنا مجھ کو
دیکھ لوں آپ نے کس لطف سے دیکھا مجھ کو
ہوش رہ جائے دم نزع بس اتنا مجھ کو
اپنے پیاروں کے غلاموں میں جو پایا مجھ کو
چشم حق بیں نے بڑے پیار سے دیکھا مجھ کو
اللہ اللہ مری چشم تصور کا کمال
کالے کوسوں سے نظر آتا ہے طیبا مجھ کو
باندھ رکھے ہیں مرے جوشش حیرت نے قدم
کھینچ لے چل دلِ مشتاق مدینا مجھ کو
کانٹے چن چن کے سیوں چاک گریباں اپنا
راہ طیبہ میں رہے ہوش بس اتنا مجھ کو
میں نہیں کہتا کہ کچھ ہوش رہے ہاں نہ رہے
سنگِ در پر ترے درکار ہے سجدہ مجھ کو
آپ کے ہوتے نہیں کوئی تمنا واللہ
مل گئے آپ تو بس مل گئی دنیا مجھ کو
میں نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
کون پوچھے گا جو تم دو گے نکالا مجھ کو
کوئے طیبہ سے تو لے چلنے کی ضد ہے ناصح
کس کو روؤں گا اگر خلد نہ بھایا مجھ کو
میں تو سمجھا تھا کہ عصیاں مرے لے ڈوبیں گے
رحمتِ حق نے مگر ڈھونڈ نکالا مجھ کو
مقطع
غوث اعظم، ہے خلیؔل آپ کے در کا منگتا
اب تو دے دیجئے آقا کوئی ٹکڑا مجھ کو
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Makhboon Mahzoof Maqtoo
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
Radif
مجھ کو
Zameen
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع؛ ردیف: مجھ کو
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
24
Writer
Mufti Muhammad Khaleel Barkati
Book
Jamal-e-Khaleel