Naat
Mera Ghar Ghayart Khursheed-e-Darakhshan Hoga
میرا گھر غیرت خورشیدِ درخشاں ہوگا
Urdu Kalam
مطلع
میرا گھر غیرت خورشیدِ درخشاں ہوگا
خیر سے جان قمر جب کبھی مہماں ہوگا
جو تبسم سے عیاں اک درِ دنداں ہوگا
ذرہ ذرہ مرے گھر کا مہِ تاباں ہوگا
کیوں مجھے خوف ہو محشر کا کہ ہاتھوں میں مرے
دامن حامی خود، ماحی عصیاں ہوگا
پلہ عصیاں کا گراں بھی ہو تو کیا خوف مجھے
میرے پلے پہ تو وہ رحمت رحماں ہوگا
مجھ سے عاصی کو جو بے داغ چھڑا لائیں گے
اہل محشر میں جو دیکھے گا وہ حیراں ہوگا
کوئی منہ میرا تکے گا کہ یہ وہ عاصی ہے
جس کو ہم جانتے تھے داخل میزاں ہوگا
کوئی اس رحمت عالم پہ تصدق ہوگا
کوئی یہ شان کرم دیکھ کے قرباں ہوگا
ماجرا دیکھ کے ہوگا یہ کسی کو سکتہ
اک تعجب سے وہ انگشت بد نداں ہوگا
ان کی حیرت پہ کہوں گا کہ تعجب کیا ہے
خود خدا ہوگا جدھر سرور ذیشاں ہوگا
دم نکل جائے تمہیں دیکھ کے آسانی سے
کچھ بھی دشوار نہ ہوگا جو یہ آساں ہوگا
زخم پر زخم یہی کھائے یہی قتل بھی ہو
خون مسلم ابھی کیا اس سے بھی ارزاں ہوگا
بھیڑیوں کا ہے یہ جنگل نہیں کوئی راعی
بھولی بھیڑوں کا شہا کون نگہباں ہوگا
ظلم پرظلم سہے اور سزائیں بھگتے
اور اف کی تو تہ خنجر برّاں ہوگا
یہی اندھیرا گر اور بھی کچھ روز رہا
تو مسلماں کا نشاں بھی نہ نمایا ہوگا
صبح روشن کی سیہ بختی سے اب شام ہوئی
کب قمر نور دہِ شام غریباں ہوگا
تو اگر چا ہے ملے خاک میں سلطان زماں
تیرا بندہ کوئی تو چا ہے تو سلطاں ہوگا
ظلمت قبر کا کیا خوف مجھے اے نورؔی
جب مرے قلب میں ایماں کا لمعاں ہوگا
مقطع
سامانِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhram Akhrab Makfoof Majboob
Arkaan
مفعولن مفعول مفاعیل فَعَل
Radif
ہوگا
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرم اخرب مکفوف مجبوب؛ ردیف: ہوگا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
35
Writer
Mufti-e-Azam Mustafa Raza Noori
Book
Saman-e-Bakhshish