Naat
Parhoon Woh Matla-e-Noori Sanaaye Mehr-e-Anwar Ka
پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا
Urdu Kalam
مطلع
نعت شہ والا
پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا
ہو جس سے قلب روشن جیسے مطلع مہر محشر کا
سر عرش علا پہنچا قدم جب میرے سرور کا
زبان قدسیاں پر شور تھا اللہ اکبر کا
بنا عرش بریں مسند کف پائے منور کا
خدا ہی جانتا ہے مرتبہ سرکار کے سرکار
دو عالم صدقہ پاتے ہیں مرے سرکار کے درکا
اسی سرکار سے ملتا ہے جو کچھ ہے مقدر کا
بڑے دربار میں پہنچایا مجھ کو میری قسمت نے
میں صدقے جاؤں کیا کہنا مرے اچھے مقدر کا
ہے خشک و تر پہ قبضہ جس کا وہ شاہ جہاں یہ ہے
یہی ہے بادشاہ بر کا یہی سلطاں سمندر کا
مٹے ظلمت جہاں کی نور کا تڑکا ہو عالم میں
نقاب روئے انور اے مرے خورشید اب سرکا
ضیا بخشی تری سرکا کی عالم پہ روشن ہے
مہ و خورشید صدقہ پاتے ہیں پیارے ترے درکا
نگاہ مہر سے اپنی بنایا مہر ذروں کو
الہٰی! نور دن دونا ہو مہر ذرہ پرور کا
طبق پر آسماں کے لکھتا میں نعت شہ والا
قلم اے کاش مل جاتا مجھے جبریل کے پرکا
مقابل ان کے ذرہ کے ذرا سامنہ نکل آیا
بہت شہرہ سنا کرتے تھے ہم خورشید محشر کا
جمال حق نما دیکھیں عیاں نور خدا پائیں
کلیم آئیں ہٹا دیکھیں ذرا پردہ ترے در کا
نہ سایہ روح کا ہر گز نہ سایہ نور کا ہر گز
تو سایہ کیسا اس جان جہاں کے جسم انور کا
وہ آئینہ اگر دیکھیں تو اپنے آپ کو دیکھیں
کہاں ہے آئینہ میں اور کوئی ان کے برابر کا
محال عقل ہے تیرا مماثل اے مرے سرور
تو ہم کر نہیں سکتا ہے عاقل تیرے ہم سرکا
خدا شاہد رضا کا آپ کی طالب خدا ہوگا
تعالی اللہ رتبہ میرے حامی میرے یاور کا
دبا جاتا پِجا جاتا ہوں میں آقا دہائی ہے
یہ بھاری بوجھ عصیاں کا مرے سرکا ذرا سرکا
بجھے گی شربت دیدار ہی سے تشنگی اپنی
تمہاری دید کا پیاسا ہوں یوں پیاسا ہوں کوثر کا
زباں پر جم گئے کانٹے ہے سارا حلق خشک اپنا
شہید کربلا کا صدقہ دو اک جام کوثر کا
کمی کچھ بھی خزانے میں تمہارے ہو نہیں سکتی
تمہیں حق نے عطا فرما دیا جب چشمہ کوثر کا
جو آب و تاب دندان منور دکھ لوں نوریؔ
مقطع
مرا بحر سخن سر چشمہ ہو خوش آبِ گوہر کا
سامانِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
کا
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: کا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
44
Writer
Mufti-e-Azam Mustafa Raza Noori
Book
Saman-e-Bakhshish