Naat
Qaflay Ne Soo-e-Taiba Kamar Aaraayee Ki
قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی
Urdu Kalam
مطلع
قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی
مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی
لاج رکھ لی طَمَعِ عفو کے سودائی کی
اے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
دھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی
پانسو (۵۰۰) سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
آس ہم کو بھی لگی ہے تِری شنوائی کی
چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج
واہ کیا بات شہا! تیری توانائی کی
تنگ ٹھہری ہے رؔضا جس کے لیے وسعتِ عرش
بس جگہ دل میں ہے اس جلوۂ ہر جائی کی
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Munsarih Musamman Matwi Maksoof
Arkaan
مفتَعِلن فاعلن مفتَعِلن فاعلن
Radif
کی
Zameen
بحر: منسرح مثمن مطوی مکسوف؛ ردیف: کی
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
15
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish