Naat
Tera Noor Aalam Mein Jalwa Numa Hai
تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے
Urdu Kalam
مطلع
تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے
اسی سے زمین و فلک منجلا ہے
نجوم و کواکب میں شمس و قمر میں
اُسی کی تجلّی، اُسی کی ضیاء ہے
نبی اپنی امّت کے سردار تھے سب
ہمارا نبی سیّد الانبیاء ہے
رسالت رسولوں کی تھی ایک حد تک
ہمارے نبی کی رسالت سِوا ہے
نبی ہوتے آئے یکے بعد دیگر
ہمارا نبی خاتم الانبیاء ہے
ہم ہی ایک کیا سارا عالم ہے اُن کا
خُدا کے وہ ہیں اور اُن کا خدا ہے
مِلا، مِل رہا ہے، ملے گا اُن ہی سے
نبی کا دیا، سب خدا کا دیا ہے
چَلے سیر سبعِ سمٰوات کرلی
گئے عرش تک، کون اُس جا گیا ہے؟
وَاَوْحٰی فَاَوْحٰی فَقَدْ جَاءَ رَجْعاً
فقط ایک ہی آن میں سب ہُوا ہے
وَرُوْحٰی رِیَاحْ الصَّبَا عِنْدَ رَوْضٍ
فَقَدْ لِیْ لِمَنْ فِیْہِ جلوہ نما ہے
وَاَنْتَ عَزِیْز ٌ حَرِیْصٌ عَلَیْنَا
رَؤُوفُ رَحِیْمٌ کَرِیْمٌ عطا ہے
تِرے نام پر ہند میں جی رہے ہی
مگر دل مدینہ میں اپنا پڑا ہے
مقطع
مئے کو جِلا، مار، اپنا بنا کر
کہ بُرہانؔ کا کون تیرے سِوا ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mutaqarib Musamman Salim
Arkaan
فعولن فعولن فعولن فعولن
Radif
ہے
Zameen
بحر: متقارب مثمن سالم؛ ردیف: ہے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
26
Writer
Burhan-e-Millat Burhan-ul-Haq Jabal Puri
Book
Jazbat-e-Burhan