Naat
Tum Hi Ho Chain Aur Dil-e-be Qarar Mein
تم ہی ہو چین اور دلِ بے قرار میں
Urdu Kalam
مطلع
تم ہی ہو چین اور دلِ بے قرار میں
تم ہی تو ایک آس ہو قلبِ گنہگار میں
روح نہ کیوں ہو مضطرب موت کے انتظار میں
سنتا ہوں مجھ کو دیکھنے آئینگے وہ مزار میں
خاک ہے ایسی زندگی وہ کہیں اور ہم کہیں
ہے اسی زیست میں مزار جو دیارِ یار میں
بارشِ فیض سے ہوئی کشتِ عمل ہری بھری
خشک زمیں کے دن پھرے جان پڑی بہار میں
دل میں جو آکر تم رہو سینے میں تم اگر بسو
پھر ہو وہی چہل پہل اُجڑے ہوئے دیار میں
ان کے جو ہم غلام تھے خلق کے پیشوا رہے
اُن سے پھرے جہاں پھر آئی کمی وقار میں
قبر کی سونی رات ہے کوئی نہ آس پاس ہے
اک تیرے دم کی آس ہے قلبِ سیاہ کار میں
فیض نے تیرے یا نبیﷺ کردیا مجھ کو کیا سے کیا
ورنہ دھرا ہوا تھا کیا مٹھی بھر اس غبار میں
جس کی نہ لے کوئی خبر بند ہوں جس پہ سارے در
اس کا تو ہی ہے چارہ گر آئے ترے جوار میں
چار رسل فرشتے چار چار کتب ہیں دین چار
سلسلے دونوں چار چار لطف عجب ہے چار میں
آتش و آب و خاک بادان ہی سے سب کا ہے ثبات
چار کا سارا ماجرا ختم ہے چار یار میں
سر تو سوئے حرم جھکا دل سوئے کوئے مصطفیٰﷺ
دل کا خدا بھلا کرے یہ نہیں اختیار میں
اس پہ گواہ ھُوَالَّذِیْ شیشہ حق نما نبیﷺ
دیکھ لو جلوۂ نبی شیشۂ چار یار میں
مقطع
سالکؔ روسیہ کا منہ دعویٰ عشقِ مصطفیٰﷺ
پائے جو خدمتِ بلال آئے کسی شمار میں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhrab Makfoof Mahzoof
Arkaan
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
Radif
میں
Zameen
بحر: مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف؛ ردیف: میں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
28
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik